کاش تم نہ جاتی

جب وہ گھر میں آتی تو ایسے لگتا جیسے بہار سی آ گئی ہے. اس کے دم سے خوب رونق لگتی. وہ تھی ہی ایسی ہر ایک کا دل موہ لیتی تھی. ابا جان بھی خوش ہو تے. اماں بھی خوش ہوتیں. بھیا بھی گنگناتے رہتے. میں چپکے سے جا کر انہیں چھیڑتی. زیادہ خوش نہ ہوں وہ مہمان ہے. کسی وقت بھی جا سکتی ہے. وہ زیر لب مسکرا کر مصنوعی خفگی سے مجھے دیکھتے پھر لیب ٹاپ پر نظریں جما لیتے. جب وہ چلی جاتی تو سب ہی اداس ہو جاتے. ایسے لگتا جیسے ساری رونق ہی چلی گئی ہو. گھر میں خاموشی سی چھا جاتی. بھیا خاموشی سے لیٹ جاتے. میں پھر چھیڑتی، دیکھا نا میں نہ کہتی تھی زیادہ خوش نہ ہوا کریں اس کےآنے سے. بھیا نے ٹھنڈی آہ بھر کر اداسی سے پوچھا. کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ وہ ایک بار آئے اور پھر کھبی نہ جائے. میں نے جواب دیا کہ ہو سکتا ہے حکومت بدلی ہے شاید تبدیلی آ جائے اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے بجلی کی لوڈ شیڈنگ ختم ہو جائے. اور پھر لائیٹ کبھی نہ جائے. آمین ثم آمین.

عابدہ زی شیریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے