سخن شناس حضرات کیلئے بہترین شاعری


- -

اشتہار


گردن گردن ہے اور پوٹا پوٹا ہی ہوتا ہے

گردن گردن ہے اور پوٹا پوٹا ہی ہوتا ہے
کھرا ہمیشہ کھرا ہے، کھوٹا کھوٹا ہی ہوتا ہے

نئے نظام کی بڑھکیں سنتے عمر گزر گئی ساری
وڈا ہر تھا‍ں وڈا چھوٹا چھوٹا ہی ہوتا ہے

لُچے کو سمجھایا پیار سے صفر نتیجہ نکلا
ہم نے یہ ازمایا سوٹا سوٹا ہی ہوتا ہے

پہلے اودھروں، فیر ایدھروں اب فیر کھڑا ہے اودھروں
پبلک تنگ ہے لیکن لوٹا لوٹا ہی ہوتا ہے


شاعر/شاعرہ: خالد مسعود

تعاون: م ع ذ

Share


Tweet


ہمارا دل سویرے کا سنہرا جام ہو جائے

ہمارا دل سویرے کا سنہرا جام ہو جائے
چراغوں کی طرح آنکھیں جلیں جب شام ہو جائے

کبھی تو آسماں سے چاند اترے جام ہو جائے
تمہارے نام کی اک خوبصورت شام ہو جائے

عجب حالات تھے یوں دل کا سودا ہو گیا آخر
محبت کی حویلی جس طرح نیلام ہو جائے

سمندر کے سفر میں اس طرح آواز دے ہم کو
ہوائیں تیز ہوں اور کشتیوں میں شام ہو جائے

مجھے معلوم ہے اس کا ٹھکانا پھر کہاں ہوگا
پرندہ آسماں چھونے میں جب ناکام ہو جائے

اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو
نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے


شاعر/شاعرہ: بشیر بدر

تعاون: م ع ذ

Share


Tweet


آم نامہ

نامہ نہ کوئی یار کا پیغام بھیجئے
اس فصل میں جو بھیجئے بس آم بھیجئے

ایسا ضرور ہو کہ انہیں رکھ کے کھا سکوں
پختہ اگرچہ بیس تو دس خام بھیجئے

معلوم ہی ہے آپ کو بندے کا ایڈریس
سیدھے الہ آباد مرے نام بھیجئے

ایسا نہ ہو کہ آپ یہ لکھیں جواب میں
تعمیل ہوگی پہلے مگر دام بھیجئے


شاعر/شاعرہ: اکبر الہ آبادی

تعاون: م ع ذ

Share


Tweet


اشتہار


اک لفظ محبت کا ادنیٰ یہ فسانہ ہے

اک لفظ محبت کا ادنیٰ یہ فسانہ ہے
سمٹے تو دل عاشق پھیلے تو زمانہ ہے

یہ کس کا تصور ہے یہ کس کا فسانہ ہے
جو اشک ہے آنکھوں میں تسبیح کا دانہ ہے

دل سنگ ملامت کا ہر چند نشانہ ہے
دل پھر بھی مرا دل ہے دل ہی تو زمانہ ہے

ہم عشق کے ماروں کا اتنا ہی فسانہ ہے
رونے کو نہیں کوئی ہنسنے کو زمانہ ہے

وہ اور وفا دشمن مانیں گے نہ مانہ ہے
سب دل کی شرارت ہے آنکھوں کا بہانہ ہے

شاعر ہوں میں شاعر ہوں میرا ہی زمانہ ہے
فطرت مرا آئینا قدرت مرا شانہ ہے

جو ان پہ گزرتی ہے کس نے اسے جانا ہے
اپنی ہی مصیبت ہے اپنا ہی فسانہ ہے

کیا حسن نے سمجھا ہے کیا عشق نے جانا ہے
ہم خاک نشینوں کی ٹھوکر میں زمانہ ہے

آغاز محبت ہے آنا ہے نہ جانا ہے
اشکوں کی حکومت ہے آہوں کا زمانہ ہے

آنکھوں میں نمی سی ہے چپ چپ سے وہ بیٹھے ہیں
نازک سی نگاہوں میں نازک سا فسانہ ہے

ہم درد بہ دل نالاں وہ دست بہ دل حیراں
اے عشق تو کیا ظالم تیرا ہی زمانہ ہے

یا وہ تھے خفا ہم سے یا ہم ہیں خفا ان سے
کل ان کا زمانہ تھا آج اپنا زمانہ ہے

اے عشق جنوں پیشہ ہاں عشق جنوں پیشہ
آج ایک ستم گر کو ہنس ہنس کے رلانا ہے

تھوڑی سی اجازت بھی اے بزم گہ ہستی
آ نکلے ہیں دم بھر کو رونا ہے رلانا ہے

یہ عشق نہیں آساں اتنا ہی سمجھ لیجے
اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے

خود حسن و شباب ان کا کیا کم ہے رقیب اپنا
جب دیکھیے اب وہ ہیں آئینہ ہے شانہ ہے

تصویر کے دو رخ ہیں جاں اور غم جاناں
اک نقش چھپانا ہے اک نقش دکھانا ہے

یہ حسن و جمال ان کا یہ عشق و شباب اپنا
جینے کی تمنا ہے مرنے کا زمانہ ہے

مجھ کو اسی دھن میں ہے ہر لحظہ بسر کرنا
اب آئے وہ اب آئے لازم انہیں آنا ہے

خودداری و محرومی محرومی و خودداری
اب دل کو خدا رکھے اب دل کا زمانہ ہے

اشکوں کے تبسم میں آہوں کے ترنم میں
معصوم محبت کا معصوم فسانہ ہے

آنسو تو بہت سے ہیں آنکھوں میں جگرؔ لیکن
بندھ جائے سو موتی ہے رہ جائے سو دانا ہے


شاعر/شاعرہ: جگر مراد آبادی

تعاون: م ع ذ

Share


Tweet


اے محبت ترے انجام پہ رونا آیا

اے محبت ترے انجام پہ رونا آیا
جانے کیوں آج ترے نام پہ رونا آیا

یوں تو ہر شام امیدوں میں گزر جاتی ہے
آج کچھ بات ہے جو شام پہ رونا آیا

کبھی تقدیر کا ماتم کبھی دنیا کا گلہ
منزل عشق میں ہر گام پہ رونا آیا

مجھ پہ ہی ختم ہوا سلسلۂ نوحہ گری
اس قدر گردش ایام پہ رونا آیا

جب ہوا ذکر زمانے میں محبت کا شکیلؔ
مجھ کو اپنے دل ناکام پہ رونا آیا


شاعر/شاعرہ: شکیل بدایونی

تعاون: م ع ذ

Share


Tweet


دل آباد کہاں رہ پائے اس کی یاد بھلا دینے سے

دل آباد کہاں رہ پائے اس کی یاد بھلا دینے سے
کمرہ ویراں ہو جاتا ہے اک تصویر ہٹا دینے سے

بے تابی کچھ اور بڑھا دی ایک جھلک دکھلا دینے سے
پیاس بجھے کیسے صحرا کی دو بوندیں برسا دینے سے

ہنستی آنکھیں لہو رلائیں کھلتے گل چہرے مرجھائیں
کیا پائیں بے مہر ہوائیں دل دھاگے الجھا دینے سے

ہم کہ جنہیں تارے بونے تھے ہم کہ جنہیں سورج تھے اگانے
آس لیے بیٹھے ہیں سحر کی جلتے دیئے بجھا دینے سے

عالی شعر ہو یا افسانہ یا چاہت کا تانا بانا
لطف ادھورا رہ جاتا ہے پوری بات بتا دینے سے


شاعر/شاعرہ: جلیل عالی

تعاون: م ع ذ

Share


Tweet


کسی اور غم میں اتنی خلش نہاں نہیں ہے

کسی اور غم میں اتنی خلش نہاں نہیں ہے
غم دل مرے رفیقو غم رائگاں نہیں ہے

کوئی ہم نفس نہیں ہے کوئی رازداں نہیں ہے
فقط ایک دل تھا اب تک سو وہ مہرباں نہیں ہے

مری روح کی حقیقت مرے آنسوؤں سے پوچھو
مرا مجلسی تبسم مرا ترجماں نہیں ہے

کسی زلف کو صدا دو کسی آنکھ کو پکارو
بڑی دھوپ پڑ رہی ہے کوئی سائباں نہیں ہے

انہیں پتھروں پہ چل کر اگر آ سکو تو آؤ
مرے گھر کے راستے میں کوئی کہکشاں نہیں ہے


شاعر/شاعرہ: مصطفی زیدی

تعاون: م ع ذ

Share


Tweet


جس کو عادت وصل کی ہو ہجر سے کیونکر بنے

جس کو عادت وصل کی ہو ہجر سے کیوں کر بنے
جب اٹھے یہ غم کہ دل کا آئنہ پتھر بنے

اب جو وہ بنوائیں گہنا یاد رکھنا گل فروش
پھول بچ جائیں تو میری قبر کی چادر بنے

بعد آرائش بلائیں کون لے گا میرے بعد
یاد کرنا مجھ کو جب زلف پری پیکر بنے

ہے تمہارے سامنے تو جان کا بچنا محال
تم سے جب چھوٹیں تو دیکھیں غیر سے کیوں کر بنے

دونوں عاشق تیرے اور دونوں کی یکجا بود و باش
میری جاں جان و جگر میں دیکھیے کیوں کر بنے

آرزو مند شہادت کی وصیت سب سے ہے
نام کھودا جائے میرا جب کوئی خنجر بنے

دل مشبک ہو گیا تیر نگاہ خانہ سے
اب تمہاری یاد کے آنے کو لاکھوں گھر بنے

غیر سے کوئی تعلق ہی نہ رکھ اے جنگ جو
گر بگڑ مجھ سے بگڑ جو کچھ بنے مجھ پر بنے

خفتگان خاک چونک اٹھے چلے کچھ ایسی چال
آج تو اے میری جاں تم فتنۂ محشر بنے

چاہتے ہو تم رہوں مر کر بھی میں قدموں سے دور
کہتے ہو قبر اس کی میرے کوچہ سے باہر بنے

مر کے بھی پائیں لب ساقی کا بوسہ کیا مجال
واں نہ پہنچے گر ہماری خاک کا ساغر بنے

دامن قاتل کے دھبوں کی گواہی ہو ضرور
گر ہمارے خون کا اے دوستو محضر بنے

دل مجھے اچھا برا جیسا بنایا دے دیا
سر تو کوئی پوچھتا کیسا بنے کیوں کر بنے

قبر کا کونا ہو مسکن دم نکل جائے رشیدؔ
خانۂ تن گر چکے جلدی کہ اپنا گھر بنے


شاعر/شاعرہ: رشید لکھنوی

تعاون: بابر علی

Share


Tweet


اشتہار


دل گیا تم نے لیا ہم کیا کریں

دل گیا تم نے لیا ہم کیا کریں
جانے والی چیز کا غم کیا کریں

ہم نے مر کر ہجر میں پائی شفا
ایسے اچھوں کا وہ ماتم کیا کریں

اپنے ہی غم سے نہیں ملتی نجات
اس بنا پر فکر عالم کیا کریں

ایک ساغر پر ہے اپنی زندگی
رفتہ رفتہ اس سے بھی کم کیا کریں

کر چکے سب اپنی اپنی حکمتیں
دم نکلتا ہو تو ہمدم کیا کریں

دل نے سیکھا شیوۂ بیگانگی
ایسے نامحرم کو محرم کیا کریں

معرکہ ہے آج حسن و عشق کا
دیکھیے وہ کیا کریں ہم کیا کریں

آئینہ ہے اور وہ ہیں دیکھیے
فیصلہ دونوں یہ باہم کیا کریں

آدمی ہونا بہت دشوار ہے
پھر فرشتے حرص آدم کیا کریں

تند خو ہے کب سنے وہ دل کی بات
اور بھی برہم کو برہم کیا کریں

حیدرآباد اور لنگر یاد ہے
اب کے دلی میں محرم کیا کریں

کہتے ہیں اہل سفارش مجھ سے داغؔ
تیری قسمت ہے بری ہم کیا کریں


شاعر/شاعرہ: داغ دہلوی

تعاون: بابر علی

Share


Tweet


اس نہیں کا کوئی علاج نہیں

اس نہیں کا کوئی علاج نہیں
روز کہتے ہیں آپ آج نہیں

کل جو تھا آج وہ مزاج نہیں
اس تلون کا کچھ علاج نہیں

آئنہ دیکھتے ہی اترائے
پھر یہ کیا ہے اگر مزاج نہیں

لے کے دل رکھ لو کام آئے گا
گو ابھی تم کو احتیاج نہیں

ہو سکیں ہم مزاج داں کیونکر
ہم کو ملتا ترا مزاج نہیں

چپ لگی لعل جاں فزا کو ترے
اس مسیحا کا کچھ علاج نہیں

دل بے مدعا خدا نے دیا
اب کسی شے کی احتیاج نہیں

کھوٹے داموں میں یہ بھی کیا ٹھہرا
درہم داغ کا رواج نہیں

بے نیازی کی شان کہتی ہے
بندگی کی کچھ احتیاج نہیں

دل لگی کیجئے رقیبوں سے
اس طرح کا مرا مزاج نہیں

عشق ہے پادشاہ عالم گیر
گرچہ ظاہر میں تخت و تاج نہیں

درد فرقت کی گو دوا ہے وصال
اس کے قابل بھی ہر مزاج نہیں

یاس نے کیا بجھا دیا دل کو
کہ تڑپ کیسی اختلاج نہیں

ہم تو سیرت پسند عاشق ہیں
خوب رو کیا جو خوش مزاج نہیں

حور سے پوچھتا ہوں جنت میں
اس جگہ کیا بتوں کا راج نہیں

صبر بھی دل کو داغؔ دے لیں گے
ابھی کچھ اس کی احتیاج نہیں


شاعر/شاعرہ: داغ دہلوی

تعاون: بابر علی

Share


Tweet


ستم ہی کرنا جفا ہی کرنا نگاہ الفت کبھی نہ کرنا

ستم ہی کرنا جفا ہی کرنا نگاہ الفت کبھی نہ کرنا
تمہیں قسم ہے ہمارے سر کی ہمارے حق میں کمی نہ کرنا

ہماری میت پہ تم جو آنا تو چار آنسو بہا کے جانا
ذرا رہے پاس آبرو بھی کہیں ہماری ہنسی نہ کرنا

کہاں کا آنا کہاں کا جانا وہ جانتے ہی نہیں یہ رسمیں
وہاں ہے وعدے کی بھی یہ صورت کبھی تو کرنا کبھی نہ کرنا

لیے تو چلتے ہیں حضرت دل تمہیں بھی اس انجمن میں لیکن
ہمارے پہلو میں بیٹھ کر تم ہمیں سے پہلو تہی نہ کرنا

نہیں ہے کچھ قتل ان کا آساں یہ سخت جاں ہیں برے بلا کے
قضا کو پہلے شریک کرنا یہ کام اپنی خوشی نہ کرنا

ہلاک انداز وصل کرنا کہ پردہ رہ جائے کچھ ہمارا
غم جدائی میں خاک کر کے کہیں عدو کی خوشی نہ کرنا

مری تو ہے بات زہر ان کو وہ ان کے مطلب ہی کی نہ کیوں ہو
کہ ان سے جو التجا سے کہنا غضب ہے ان کو وہی نہ کرنا

ہوا اگر شوق آئنے سے تو رخ رہے راستی کی جانب
مثال عارض صفائی رکھنا برنگ کاکل کجی نہ کرنا

وہ ہی ہمارا طریق الفت کہ دشمنوں سے بھی مل کے چلنا
یہ ایک شیوہ ترا ستم گر کہ دوست سے دوستی نہ کرنا

ہم ایک رستہ گلی کا اس کی دکھا کے دل کو ہوئے پشیماں
یہ حضرت خضر کو جتا دو کسی کی تم رہبری نہ کرنا

بیان درد فراق کیسا کہ ہے وہاں اپنی یہ حقیقت
جو بات کرنی تو نالہ کرنا نہیں تو وہ بھی کبھی نہ کرنا

مدار ہے ناصحو تمہیں پر تمام اب اس کی منصفی کا
ذرا تو کہنا خدا لگی بھی فقط سخن پروری نہ کرنا

بری ہے اے داغؔ راہ الفت خدا نہ لے جائے ایسے رستے
جو اپنی تم خیر چاہتے ہو تو بھول کر دل لگی نہ کرنا


شاعر/شاعرہ: داغ دہلوی

تعاون: بابر علی

Share


Tweet


جو ہو سکتا ہے اس سے وہ کسی سے ہو نہیں سکتا

جو ہو سکتا ہے اس سے وہ کسی سے ہو نہیں سکتا
مگر دیکھو تو پھر کچھ آدمی سے ہو نہیں سکتا

محبت میں کرے کیا کچھ کسی سے ہو نہیں سکتا
مرا مرنا بھی تو میری خوشی سے ہو نہیں سکتا

الگ کرنا رقیبوں کا الٰہی تجھ کو آساں ہے
مجھے مشکل کہ میری بیکسی سے ہو نہیں سکتا

کیا ہے وعدۂ فردا انہوں نے دیکھیے کیا ہو
یہاں صبر و تحمل آج ہی سے ہو نہیں سکتا

یہ مشتاق شہادت کس جگہ جائیں کسے ڈھونڈیں
کہ تیرا کام قاتل جب تجھی سے ہو نہیں سکتا

لگا کر تیغ قصہ پاک کیجئے دادخواہوں کا
کسی کا فیصلہ کر منصفی سے ہو نہیں سکتا

مرا دشمن بظاہر چار دن کو دوست ہے تیرا
کسی کا ہو رہے یہ ہر کسی سے ہو نہیں سکتا

پرسش کہوگے کیا وہاں جب یاں یہ صورت ہے
ادا اک حرف وعدہ نازکی سے ہو نہیں سکتا

نہ کہئے گو کہ حال دل مگر رنگ آشنا ہیں ہم
یہ ظاہر آپ کی کیا خامشی سے ہو نہیں سکتا

کیا جو ہم نے ظالم کیا کرے گا غیر منہ کیا ہے
کرے تو صبر ایسا آدمی سے ہو نہیں سکتا

چمن میں ناز بلبل نے کیا جو اپنی نالے پر
چٹک کر غنچہ بولا کیا کسی سے ہو نہیں سکتا

نہیں گر تجھ پہ قابو دل ہے پر کچھ زور ہو اپنا
کروں کیا یہ بھی تو نا طاقتی سے ہو نہیں سکتا

نہ رونا ہے طریقے کا نہ ہنسنا ہے سلیقے کا
پریشانی میں کوئی کام جی سے ہو نہیں سکتا

ہوا ہوں اس قدر محجوب عرض مدعا کر کے
کہ اب تو عذر بھی شرمندگی سے ہو نہیں سکتا

غضب میں جان ہے کیا کیجئے بدلہ رنج فرقت کا
بدی سے کر نہیں سکتے خوشی سے ہو نہیں سکتا

مزا جو اضطراب شوق سے عاشق کو ہے حاصل
وہ تسلیم و رضا و بندگی سے ہو نہیں سکتا

خدا جب دوست ہے اے داغؔ کیا دشمن سے اندیشہ
ہمارا کچھ کسی کی دشمنی سے ہو نہیں سکتا


شاعر/شاعرہ: داغ دہلوی

تعاون: بابر علی

Share


Tweet


اس قدر ناز ہے کیوں آپ کو یکتائی کا

اس قدر ناز ہے کیوں آپ کو یکتائی کا
دوسرا نام ہے وہ بھی مری تنہائی کا

کیا چھپے راز الٰہی دل شیدائی کا
عرصۂ حشر تو بازار ہے رسوائی کا

جان لے جائے گا آنا شب تنہائی کا
کون اب روکنے والا ہے مری آئی کا

خوگر رنج و بلا حشر کے دن کیا خوش ہوں
کہ وہ مال آج ہوا ہے شب تنہائی کا

زندہ ہے نام شہادت کا اسی کے دم سے
تیرے کشتہ نے کیا کام مسیحائی کا

ہر گلی کوچے میں پامال اسے ہو جانا
دل ہے یا نقش قدم ہے کسی ہرجائی کا

اس ادب سے تہہ شمشیر تڑپنا اے دل
کہ گماں تیری تپش پر ہو شکیبائی کا

فتنے بھی قاعدے سے اٹھتے ہیں جب اٹھتے ہیں
کیا سلیقہ ہے تمہیں انجمن آرائی کا

وہ یہ کہتے ہیں مرا صبر پڑے گا تجھ پر
اب مجھے رنج نہیں اپنی شکیبائی کا

کیا غرض ہے مری تقدیر کو مجھ سے پوچھے
آبرو کا ہے طلب گار کہ رسوائی کا

واں شب وعدہ ملی پاؤں میں مہندی اس نے
یاں کلیجا کوئی ملتا ہے تمنائی کا

رات بھر شمع رہی ہجر میں وہ بھی خاموش
ملتجی تھا تری تصویر سے گویائی کا

سر مرا کاٹ کے دہلیز پر اپنی رکھ دو
شوق باقی ہے ابھی ناصیہ فرسائی کا

یوں نہ مقبول ہوا ہوگا کسی کا سجدہ
بت کو ارمان رہا میری جبیں سائی کا

ہو گیا پرتو رخسار سے کچھ اور ہی رنگ
میں نے منہ چوم لیا اس کے تماشائی کا

تھم گئے جم گئے آنکھوں میں لہو کے قطرے
خون ظاہر ہے مرے صبر و شکیبائی کا

بن گیا داغ جگر مہر قیامت اے داغؔ
پر ابھی رنگ وہی ہے شب تنہائی کا


شاعر/شاعرہ: داغ دہلوی

تعاون: بابر علی

Share


Tweet


اشتہار


ہے کس قدر ہلاک فریب وفائے گل

ہے کس قدر ہلاک فریب وفائے گل
بلبل کے کاروبار پہ ہیں خندہ ہائے گل

آزادی نسیم مبارک کہ ہر طرف
ٹوٹے پڑے ہیں حلقۂ دام ہوائے گل

جو تھا سو موج رنگ کے دھوکے میں مر گیا
اے واے نالۂ لب خونیں نوائے گل

خوش حال اس حریف سیہ مست کا کہ جو
رکھتا ہو مثل سایۂ گل سر بہ پائے گل

ایجاد کرتی ہے اسے تیرے لیے بہار
میرا رقیب ہے نفس عطر سائے گل

شرمندہ رکھتے ہیں مجھے باد بہار سے
مینائے بے شراب و دل بے ہوائے گل

سطوت سے تیرے جلوۂ حسن غیور کی
خوں ہے مری نگاہ میں رنگ ادائے گل

تیرے ہی جلوہ کا ہے یہ دھوکا کہ آج تک
بے اختیار دوڑے ہے گل در قفائے گل

غالبؔ مجھے ہے اس سے ہم آغوشی آرزو
جس کا خیال ہے گل جیب قبائے گل

دیوانگاں کا چارہ فروغ بہار ہے
ہے شاخ گل میں پنجۂ خوباں بجائے گل

مژگاں تلک رسائی لخت جگر کہاں
اے وائے گر نگاہ نہ ہو آشنائے گل


شاعر/شاعرہ: مرزا اسد اللہ خان غالب

تعاون: بابر علی

Share


Tweet


کی وفا ہم سے تو غیر اسے جفا کہتے ہیں

کی وفا ہم سے تو غیر اس کو جفا کہتے ہیں
ہوتی آئی ہے کہ اچھوں کو برا کہتے ہیں

آج ہم اپنی پریشانی خاطر ان سے
کہنے جاتے تو ہیں پر دیکھیے کیا کہتے ہیں

اگلے وقتوں کے ہیں یہ لوگ انہیں کچھ نہ کہو
جو مے و نغمہ کو اندوہ ربا کہتے ہیں

دل میں آ جاے ہے ہوتی ہے جو فرصت غش سے
اور پھر کون سے نالے کو رسا کہتے ہیں

ہے پرے سرحد ادراک سے اپنا مسجود
قبلے کو اہل نظر قبلہ نما کہتے ہیں

پائے افگار پہ جب سے تجھے رحم آیا ہے
خار رہ کو ترے ہم مہر گیا کہتے ہیں

اک شرر دل میں ہے اس سے کوئی گھبرائے گا کیا
آگ مطلوب ہے ہم کو جو ہوا کہتے ہیں

دیکھیے لاتی ہے اس شوخ کی نخوت کیا رنگ
اس کی ہر بات پہ ہم نام خدا کہتے ہیں

وحشتؔ و شیفتہؔ اب مرثیہ کہویں شاید
مر گیا غالبؔ آشفتہ نوا کہتے ہیں


شاعر/شاعرہ: مرزا اسد اللہ خان غالب

تعاون: بابر علی

Share


Tweet


مہرباں ہو کے بلا لو مجھے چاہو جس وقت

مہرباں ہو کے بلا لو مجھے چاہو جس وقت
میں گیا وقت نہیں ہوں کہ پھر آ بھی نہ سکوں

ضعف میں طعنہ اغیار کا شکوہ کیا ہے
بات کچھ سر تو نہیں ہے کہ اٹھا بھی نہ سکوں

زہر ملتا ہی نہیں مجھ کو ستم گر ورنہ
کیا قسم ہے ترے ملنے کی کہ کھا بھی نہ سکوں

اس قدر ضبط کہاں ہے کبھی آ بھی نہ سکوں
ستم اتنا تو نہ کیجئے کہ اٹھا بھی نہ سکوں

لگ گئی آگ اگر گھر کو تو اندیشہ کیا
شعلۂ دل تو نہیں ہے کہ بجھا بھی نہ سکوں

تم نہ آئو گے تو مرنے کی ہیں سو تدبیریں
موت کچھ تم تو نہیں ہو کہ بلا بھی نہ سکوں

ہنس کے بلوائیے مت جائے گا سب دل کا گلہ
کیا تصور ہے ہے تمہارا کہ مٹا بھی نہ سکوں


شاعر/شاعرہ: مرزا اسد اللہ خان غالب

تعاون: بابر علی

Share


Tweet


چل نکلتی ہیں غم یار سے باتیں کیا کیا

چل نکلتی ہیں غم یار سے باتیں کیا کیا
ہم نے بھی کیں در و دیوار سے باتیں کیا کیا

بات بن آئی ہے پھر سے کہ مرے بارے میں
اس نے پوچھیں مرے غم خوار سے باتیں کیا کیا

لوگ لب بستہ اگر ہوں تو نکل آتی ہیں
چپ کے پیرایۂ اظہار سے باتیں کیا کیا

کسی سودائی کا قصہ کسی ہرجائی کی بات
لوگ لے آتے ہیں بازار سے باتیں کیا کیا

ہم نے بھی دست شناسی کے بہانے کی ہیں
ہاتھ میں ہاتھ لیے پیار سے باتیں کیا کیا

کس کو بکنا تھا مگر خوش ہیں کہ اس حیلے سے
ہو گئیں اپنے خریدار سے باتیں کیا کیا

ہم ہیں خاموش کہ مجبور محبت تھے فرازؔ
ورنہ منسوب ہیں سرکار سے باتیں کیا کیا


شاعر/شاعرہ: احمد فراز

تعاون: بابر علی

Share


Tweet


خود کو ترے معیار سے گھٹ کر نہیں دیکھا

خود کو ترے معیار سے گھٹ کر نہیں دیکھا
جو چھوڑ گیا اس کو پلٹ کر نہیں دیکھا

میری طرح تو نے شب ہجراں نہیں کاٹی
میری طرح اس تیغ پہ کٹ کر نہیں دیکھا

تو دشنۂ نفرت ہی کو لہراتا رہا ہے
تو نے کبھی دشمن سے لپٹ کر نہیں دیکھا

تھے کوچۂ جاناں سے پرے بھی کئی منظر
دل نے کبھی اس راہ سے ہٹ کر نہیں دیکھا

اب یاد نہیں مجھ کو فرازؔ اپنا بھی پیکر
جس روز سے بکھرا ہوں سمٹ کر نہیں دیکھا


شاعر/شاعرہ: احمد فراز

تعاون: بابر علی

Share


Tweet


اشتہار


دل منافق تھا شب ہجر میں سویا کیسا

دل منافق تھا شب ہجر میں سویا کیسا
اور جب تجھ سے ملا ٹوٹ کے رویا کیسا

زندگی میں بھی غزل ہی کا قرینہ رکھا
خواب در خواب ترے غم کو پرویا کیسا

اب تو چہروں پہ بھی کتبوں کا گماں ہوتا ہے
آنکھیں پتھرائی ہوئی ہیں لب گویا کیسا

دیکھ اب قرب کا موسم بھی نہ سرسبز لگے
ہجر ہی ہجر مراسم میں سمویا کیسا

ایک آنسو تھا کہ دریائے ندامت تھا فرازؔ
دل سے بے باک شناور کو ڈبویا کیسا


شاعر/شاعرہ: احمد فراز

تعاون: بابر علی

Share


Tweet


کل کے لیے کر آج نہ خست شراب میں

کل کے لیے کر آج نہ خست شراب میں
یہ سوء ظن ہے ساقی کوثر کے باب میں

ہیں آج کیوں ذلیل کہ کل تک نہ تھی پسند
گستاخی فرشتہ ہماری جناب میں

جاں کیوں نکلنے لگتی ہے تن سے دم سماع
گر وہ صدا سمائی ہے چنگ و رباب میں

رو میں ہے رخش عمر کہاں دیکھیے تھمے
نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں

اتنا ہی مجھ کو اپنی حقیقت سے بعد ہے
جتنا کہ وہم غیر سے ہوں پیچ و تاب میں

اصل شہود و شاہد و مشہود ایک ہے
حیراں ہوں پھر مشاہدہ ہے کس حساب میں

ہے مشتمل نمود صور پر وجود بحر
یاں کیا دھرا ہے قطرہ و موج و حباب میں

شرم اک ادائے ناز ہے اپنے ہی سے سہی
ہیں کتنے بے حجاب کہ ہیں یوں حجاب میں

آرایش جمال سے فارغ نہیں ہنوز
پیش نظر ہے آئنہ دایم نقاب میں

ہے غیب غیب جس کو سمجھتے ہیں ہم شہود
ہیں خواب میں ہنوز جو جاگے ہیں خواب میں

غالبؔ ندیم دوست سے آتی ہے بوئے دوست
مشغول حق ہوں بندگی بو تراب میں


شاعر/شاعرہ: مرزا اسد اللہ خان غالب

تعاون: بابر علی

Share


Tweet



اردو حقائق 2020