سخن شناس حضرات کیلئے بہترین شاعری


- -

دشت میں قیس نہیں کوہ پہ فرہاد نہیں


اشتہار


دشت میں قیس نہیں کوہ پہ فرہاد نہیں
ہے وہی عشق کی دنیا مگر آباد نہیں

ڈھونڈھنے کو تجھے او میرے نہ ملنے والے
وہ چلا ہے جسے اپنا بھی پتہ یاد نہیں

روح بلبل نے خزاں بن کے اجاڑا گلشن
پھول کہتے رہے ہم پھول ہیں صیاد نہیں

حسن سے چوک ہوئی اس کی ہے تاریخ گواہ
عشق سے بھول ہوئی ہے یہ مجھے یاد نہیں

بربت ماہ پہ مضراب فغاں رکھ دی تھی
میں نے اک نغمہ سنایا تھا تمہیں یاد نہیں

لاؤ اک سجدہ کروں عالم مدہوشی میں
لوگ کہتے ہیں کہ ساغرؔ کو خدا یاد نہیں


شاعر/شاعرہ:

تعاون: بابر علی

اشاعت کی تاریخ:

پبلشر: اردو حقائق


Share


Tweet


|

اردو حقائق 2020